گزشتہ روز پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں عین اس وقت خودکش دھماکا ہوا تھا جب وہاں نماز ظہر ادا کی جارہی تھی۔ شہید ہونے والوں میں ڈی ایس پی عرب نواز، 5 سب انسپکٹرز، مسجد کے پیش امام اور ملحقہ پولیس کوارٹر کی رہائشی خاتون بھی شامل ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور مسجد کی پہلی صف میں موجود تھا۔ پولیس کے مطابق پشاور دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 221 ہے۔ مسجد کے ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ بھاری مشینری سے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے دستے بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
گزشتہ رات سے جاری سرچ آپریشن کے دوران ریسکیو1122 نے ملبے تلے سے اب تک 21 شہدا اور 1 زخمی کو نکالا
ریسکیو1122 کی جانب سے سرچ آپریشن آخری مراحل میں داخل ہے
اللہ نہ کرے کہ مزید شہدا کو نکالا جائے امین pic.twitter.com/oKQiXVAglk
— KP_Rescue1122 (@KPRescue1122) January 31, 2023
خود کش حملے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی۔ پولیس لائنز دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔
دوسری جانب اسپتال سے شناخت کے بعد میتیں لواحقین کے حوالے کی جارہی ہیں۔ دھماکے میں شہید 6 پولیس اہلکاروں سمیت 27 افراد کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ واقعے کے دوسرے روز پشاوراورصوبے بھرمیں سوگ کا سماں ہے۔
#MediaMindsDigital #peshawarblast #peshawar #pakistan