بڑھتا درجہ حرارت اور پگھلتے گلیشئیرز ، عالمی ماہرین ماحولیاتی اسمبلی میں سر جوڑ کر بیٹھیں گے

بڑھتا درجہ حرارت اور پگھلتے گلیشئیرز ، عالمی ماہرین ماحولیاتی اسمبلی میں سر جوڑ کر بیٹھیں گے

بڑھتا درجہ حرارت دنیا بھر کے لیے تشویش میں اضافہ کررہا ہے۔ اسی سلسلے میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی اگلے ہفتے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں دنیا کے ممالک اس مسئلے کے پیشگی حل کے لیے تجاویز پیش کریں گے۔ کیوں کہ بڑھتے درجہ حرارت میں ڈگری کا ہر بڑھتا حصہ معنی رکھتا ہے۔ اور اپنی زمین اور مشترکہ مستقبل کی حفاظت کرنے میں اب بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ جب گلیشیئرز پگھلتے ہیں تو ہم صرف برف ہی نہیں کھوتے بلکہ پانی، خوراک کی حفاظت، ورثے، ثقافتوں اور مستحکم مستقبل کے مواقع سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ہمالیہ سے لے کر ماؤنٹ کینیا تک، زمین کے ہر گلیشیئر خطے نے 2024 میں لگاتار تیسرے سال نقصانات کی اطلاع دی، جس کی بڑی وجہ بڑھتا درجہ حرارت اور بارش اور برف باری کے انداز میں تبدیلی ہے۔ گلیشیئرز دنیا کے میٹھے پانی کا تقریباً 70 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ ان کے تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے نہ صرف عالمی سطح پر پانی کی سلامتی کو خطرہ ہے بلکہ سطح سمندر میں اضافہ تیز ہوتا ہے، میٹھے پانی کی انواع کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، اور کرائیوسفیئر (زمین کے منجمد علاقوں) میں پیچیدہ مائکروبیل کمیونٹیز میں خلل بھی پڑتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *