ڈی پی او گجرات سید غضنفر شاہ کا کہنا ہے کہ عمران خان پر فائرنگ کا مرکزی ملزم گرفتار ہوچکا ہے، اب ملزم کے خاندان کے افراد اور ان کے کنکشن کو دیکھنا ہے، ملزم کے موبائل فون کا فارنزک ہوگا، ملزم کا کن لوگوں سے اور کس نیٹ ورک سے رابطہ تھا یہ پتہ کیا جا رہا ہے۔ جب کہ کرائم سین پر میڈیا کے کیمرے ، ہمارے کیمرے اور پرائیوٹ کیمرے نصب تھے، تمام ویڈیوز کواکٹھا کر کے اس کا جائزہ لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملزم کو پکڑنے والے پی ٹی آئی ورکر نے بہت اچھاکام کیا، ملزم کو گاڑی میں ڈالتے وقت مشتعل ہجوم نے اسے مارنے کی کوشش کی۔
ڈی پی او کا کہنا تھا کہ درخواست ملنے پر فوری مقدمے کا اندراج کریں گے، وزیر اعلیٰ نے جے آئی ٹی بنانے کے لیے کہا ہے اس لیے زیادہ امکان ہے کہ اس کا مقدمہ سی ٹی ڈی درج کرے گی۔
لانگ مارچ کی کوریج کے لیے 2100 پولیس اہلکار لگائے گئے تھے، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی معاونت سے سکیورٹی پلان کو بہتر سے بہتر کیا گیا۔